21 جون 2013 - 19:30
ترکی: حکومت کے خلاف مظاہروں میں شدت

ترکي ميں حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے جبکہ پوليس نے مظاہرين کي سرکوبي ميں مرچوں کے اسپرے کا دوسال کا ذخيرہ تين ہفتے ميں ختم کرديا ہے -

ابنا: ترکي ميں حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ  جمعے کو بھي جاري رہا - اسي کے ساتھ اطلاع ہے کہ جمعرات کي رات مختلف شہروں ميں پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپيں ہوئيں  -رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ پوليس نے، استنبول اور  انقرہ سميت مختلف شہروں ميں دسيوں افراد کو گرفتار کيا ہے - رپورٹ ميں ترک وزير داخلہ کے حوالے سے بتايا گيا ہے کہ  اسکي شہير نامي شہر ميں  تيرہ ، استنبول ميں باسٹھ اور انقرہ ميں تيئس افراد کو گرفتار کيا گيا ہے -  قابل ذکر ہے کہ ترکي ميں  اکتيس مئي سے رجب طيب اردوغان کي حکومت کے خلاف عوام کے مظاہرے جاري ہيں - مظاہرين کو کچلنے کے لئے پوليس اور سيکورٹي دستوں کي کاروائيوں ميں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمي ہوئے ہيں  - دوسري جانب ترکي کے ذرائع ابلاغ عامہ اور اخباري حلقوں نے رپورٹ دي ہے کہ   پوليس نے مظاہرين کي سرکوبي ميں، مرچوں کے اسپرے کا دوسال کا ذخيرہ ، تين ہفتے ميں ختم کرديا ہے -اس رپورٹ کے مطابق استنول، انقرہ اور ازمير ميں مرچوں کے اسپرے کا دوسال کا ذخيرہ ختم ہوجانے کے بعد دوسرے صوبوں سے مرچوں کا اسپرے ان شہروں ميں بھيجا گيا ہے - اسپتالوں کے ذرائع نے بتايا ہے کہ مرچوں کے اسپرے، ربڑ کي گوليوں  اور آنسوگيس سے متاثر ہونے کے بعد بہت بڑي تعداد ميں لوگوں کو اسپتالوں ميں داخل کرايا گيا ہے- يہ ايسي حالت ميں ہے کہ  انساني حقوق کے بين الاقوامي فيڈريشن نے مطالبہ کيا ہے کہ ترکي کو آنسو گيس کي سپلائي بند کردي جائے - انساني حقوق کے بين الاقوامي فيڈريشن نے مرچوں کے اسپرے، آنسو گيس اور پلاسٹک کي گوليوں کے استعمال کو اقوام متحدہ کے اصول اور بين الاقوامي قوانين کي خلاف ورزي قرار ديا ہے -قابل ذکر ہے کہ ترکي ميں مظاہرين کي سرکوبي ميں  پلاسٹک کي گوليوں، مرچوں کے اسپرے اور آنسو گيس کے بے تحاشا استعمال کے سبب کم سے کم دس افراد اپني بينائي کھوچکے ہيں -اس درميان جو چيز باعث تجب ہے وہ  عوامي تحريک کو سختي سے کچلنے پر اردوغان حکومت کا اصرار ہے ,  جبکہ حزب اختلاف کے رہنما پوليس کے تشدد کو جمہوريت کي سرکوبي سے تعبير کرتے ہيں -اس کے علاوہ گزشتہ تين ہفتے سے جاري عوام کے مظاہروں کے سبب ترکي کي سياحت کي صنعت کو کافي نقصان پہنچا ہے -   مظاہرين کي سرکوبي کي وجہ سے   يورپي يونين کے ساتھ ترکي کے تعلقات بھي متاثر ہوئے ہيں اور يورپي  پارليماني وفد نے اپنا دورہ ترکي منسوخ کرديا ہے-بتايا جاتا ہے کہ  مظاہرين کو سختي سے کچلنے پر وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے اصرار کے سبب خود حکمراں جماعت کے اندر بھي پھوٹ پڑگئ‏ ہے اور کئي رہنما مظاہرين کي سرکوبي کے مخالف ہيں -  ترکي کے نائب وزير اعظم بلنت آرينچ کے  استعفے کو بھي اسي تناظر ميں ديکھا جارہا ہے جن کا استعفي صدر عبداللہ گل نے بيچ ميں پڑکے واپس کرايا ہے -بعض تجزيہ نگاروں کا يہ بھي کہنا ہے کہ  عوام کے مظاہروں  کے طول پکڑنے کي ذمہ داري بھي وزير اعظم رجب طيب اردوغان پر عائد ہوتي ہے جنہوں نے عوام  کے مطالبات پر توجہ دينے کے بجائے سرکوبي کا راستہ اپنايا جس کے نتيجے ميں اس ملک ميں مظاہرے جاري ہيں اور اس سے ملک کي معيشت کو کافي نقصان پہنچ رہا ہے - ......./169